ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گوری لنکیش قتل کی جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم، ملزمین کے متعلق پولیس کو چند اہم سراغ ملنے کا دعویٰ

گوری لنکیش قتل کی جانچ کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم، ملزمین کے متعلق پولیس کو چند اہم سراغ ملنے کا دعویٰ

Wed, 06 Sep 2017 21:58:39    S.O. News Service

بنگلورو،6؍ستمبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) معروف صحافی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے معروف کارکن گوری لنکیش کے بہیمانہ قتل کی جانچ کیلئے انسپکٹر جنرل آ ف پولیس کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹیم نے کل شام گوری لنکیش کو گولی مار دئے جانے کے بعد ان کے گھر کے پاس سے برآمد سی سی ٹی وی مناظر کا جائزہ لینے کے بعد اس معاملے کی جانچ میں چند اہم سراغ برآمد کئے ہیں، پولیس کو شبہ ہے کہ گوری لنکیش پر قاتلانہ حملہ نکسلی عناصر نے کیا ہے یا پھر دائیں نظریات رکھنے والی ہندو تنظیموں کے کارندوں کی طرف سے یہ قتل کیاگیا ہے۔ تاہم پولیس نے تمام زاویوں سے جانچ شروع کردی ہے اور بتایاجاتا ہے کہ قاتلوں کے بارے میں پولیس کو کچھ اہم سراغ کا پتہ چلا ہے۔ گوری لنکیش کے قتل کے بعد آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی ، ڈی جی پی آر کے دتہ ، شہر کے پولیس کمشنر سنیل کمار اور دیگر اعلیٰ افسران کی ایک اہم میٹنگ طلب کی، اور کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے، کسی بھی حال میں گوری لنکیش کے قاتوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ملزمین کو پکڑنے کیلئے آئی جی پی کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کااعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ ڈی جی پی آر کے دتہ نے خود پہل کی ہے کہ اس معاملے کی جانچ آئی جی پی درجہ کے عہدیدار کی قیادت میں کرائی جائے۔ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے گوری لنکیش کے بھائی اندر جیت لنکیش اور بعض بی جے پی لیڈروں کے مطالبہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ ریاستی حکومت بھی یہ معاملہ سی بی آئی سے جانچ کرانے کیلئے آمادہ ہے، جیسے ہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی جانچ مکمل ہوگی ریاستی حکومت اگلی کارروائی کرے گی۔اس سے پہلے مہاراشٹرا میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی عام کرنے میں مصروف کارکن نریندر دابولکر ، گووند پنسارے اور کرناٹک میں پروفیسر ایم ایم کلبرگی کا قتل اسی طریقے سے ہوا ہے، اسی لئے انہیں توقع ہے کہ پولیس اس معاملے کی جانچ سختی سے کر پائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کلبرگی کی طر ح حملہ آوروں نے گوری لنکیش کو اسی انداز میں گولی ماری ہے، چونکہ دونوں معاملات میں یکسانیت بہت زیادہ نظر آتی ہے، پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ اس زاویہ سے بھی معاملے کی جانچ کی جائے کہ اس معاملے میں کہیں ہندو بنیاد پرستوں کا ہاتھ تو نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ایم ایم کلبرگی کے قاتلوں کو دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی گرفتار نہ کئے جانے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی اور حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا انہیں پورا یقین ہے۔اسی طرح گوری لنکیش کے قاتلوں کو بھی تیزی سے کارروائی کرکے گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی جاچکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ گوری لنکیش کی رہائش گاہ کے پاس چار الگ الگ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں۔ان تمام کیمروں کے مناظر پولیس نے حاصل کرلئے ہیں ۔ ان مناظر میں یہ نظر آیا ہے کہ ہیلمٹ پہنا ہوا نوجوان ہاتھ میں پستول لئے گوری لنکیش کی رہائش گاہ کے قریب پہنچا ہے اور کافی قریب سے گوری لنکیش پر فائر کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ گوری لنکیش کے قتل کے معاملے کی جانچ میں ریاستی پولیس کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوری لنکیش کا شمار ان کے اقرباء میں رہا ہے، کئی امور پر انہوں نے ریاستی حکومت کی رہنمائی کی ہے اور بعض معاملات میں اگر کوتاہی ہوئی ہے تو تنقید بھی کی ہے۔ اسی لئے انہوں نے پولیس عہدیداروں سے درخواست کی ہے کہ جلد از جلد گوری لنکیش کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ اس دوران پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ اس نے گوری لنکیش کے قتل کے معاملے میں چند اہم سراغ برآمد کرلئے ہیں۔ پانچ سو سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کے مناظر حاصل کرنے کے بعد جانچ کو غیر معمولی رفتارسے آگے بڑھایا گیا ہے۔ گوری لنکیش کے دفتر سے نکلنے سے لے کر گھر پہنچنے تک راستے میں جتنے بھی سی سی ٹی وی کیمرے ہیں ان تمام کے مناظر پولیس نے حاصل کرلئے ہیں۔ گوری لنکیش پر جب گولی چلائی گئی تو اس وقت ان کی گھر کی سڑک پر گزرنے والی تمام گاڑیوں کے نمبرس بھی پولیس نے حاصل کرلئے ہیں۔ چونکہ حملہ آور نقاب پوش تھا، پولیس ماہرین کی مدد سے اس کا چہرہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔حملہ سے قبل گوری لنکیش کو جتنے بھی فون کالس آئے تھے ان تمام کی تفصیلات بھی پولیس نے حاصل کرلی ہیں۔ حکام نے بتایاکہ ایک نمبر سے گوری لنکیش کو متعدد مس کال آئے ہیں، پولیس ان کی جانچ کررہی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ کچھ شرپسندوں کی طرف سے گوری لنکیش کو دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ تاہم گوری نے اس سلسلے میں پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔ پولیس حکام نے بتایاکہ گوری لنکیش چونکہ بعض نکسلی عناصر کو اصلاح پر آمادہ کرکے انہیں قومی دھارے میں لانے میں کامیاب رہیں، ہوسکتا ہے کہ ان نکسلیوں کے ساتھیوں نے اس حملے کے ذریعہ گوری سے انتقام لیا ہو۔ گوری لنکیش کے قتل کے فوراً بعد شہر بھر میں پولیس نے بڑے پیمانے پر ناکہ بندی شروع کردی اور ہر گاڑی کی تلاش برقرار رکھی۔ اس دوران آج گوری لنکیش کا پوسٹ مارٹم صبح وکٹوریہ اسپتال میں کیاگیا اور شام میں ان کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ 
 


Share: